کاروباری طبقےکےلئےقرضوں کی واپسی مؤخرکرناخوش آئندقرار
بین الاقوامی مالیاتی فنڈنےکہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان میں معاشی ترقی 1952 کے بعد رواں سال منفی ڈیڑھ فیصد رہنے کا خدشہ ہے۔کاروباری افراد کےلئے موخر قرضوں کی پالیسی اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کےلئےریلیف احسن اقدام ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال پرآئی ایم ایف کی رپورٹ جاری کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پاکستان کے ترقیاتی اخراجات متاثر ہوں گے۔لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کےلئے ریلیف احسن اقدام ہے۔
کاروباری طبقے کےلئےقرضوں کی واپسی موخر کرنا بھی خوش آئندہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 16 ارب 83 کروڑ ڈالرجبکہ آئندہ مالی سال 13ارب86کروڑڈالرز
کی بیرونی ادائیگیاں شیڈول ہیں۔
پاکستان کو دوست ممالک کےسات ارب 90کروڑ ڈالر واپس کرنا ہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سےپاکستان کو قرضوں میں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔